Skip to main content

دھوپ


بٹلہ ہاوس کی سنکری گلیوں میں ایک دوسرے سے سٹی کھڑی عمارتوں کے اندھیرے کمروں میں صرف مصنوعی روشنی ہی نظر آتی ہے۔ دھوپ تو انکے چھوٹے چھوٹے آنگنوں تک بھی نہیں آتی۔ میں بھی کمرے میں بیٹھے بیٹھے گھٹ سا گیا تھا۔ سردی کی وجہ سے پیر بھی برف ہوئے جا رہے تھے۔ سڑکوں پر گھومنے کے  علاوہ جامعہ کالج کا وسیع کیمپس بھی اکثر میرا ٹھکانا بنتا ہے۔ کینٹین کے پاس کے لان میں دھوپ بکھری رہتی ہے۔ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر لگی بنچوں پر اسٹوڈنٹ بیٹھے گپ شپ کرتے، چائے نوشی کرتے یا کبھی کبھی کتاب پڑھتے بھی نظر آتے ہیں ۔  مجھے بھی وہان بیٹھنا پسند ہے۔ چا؁ئے کا کپ ایک ہاتھ میں پکڑے دوسرے ہاتھ سے کتاب تھامے ایک لڑکا اکثر وہاں دکھتا ہے۔ کتاب کے  پنوں سے ہٹکر چارو ں طرف گھومتی اسکی نگاہیں نہ جانے کسکو ڈھونڈھتی ہیں۔ کوئ جان پہچان والا اگر مل جائے تو مسکرا کر کچھ دیر اس سے بات کر لیتا ہے اور پھر کتاب میں گم ہو جاتا ہے۔ میں اسے اکثر یہیں دیکھتا ہوں۔ مگر وہ اس بات سے بے نیاز نظر آتا ہے کی کو ئ اسے  دیکھتا ہے یا نہں۔ یا شاید دل میں سوچتا ہو مگر اظہار نہ کرتا ہو۔ آج بھی وہ یونہی بیٹھا کتاب پڑھ رہا ہے۔ ہاتھ میں چائے کا کپ ہے جس سے اٹھتا دھواں دھیرے دھیرے مدھم ہوتا جا رہا ہے۔ وہ ہمیشہ کی طرح کتاب میں گم ہے۔ اس بات سے انجان کہ میں اسے دیکھ رہا ہوں۔ وہیں پاس ہی میں سامنے پڑی بنچ پر ایک لڑکی کان میں ہیڈفون لگائے موبائل پر غالباً گانے سن رہی ہے۔ مگر اسکی نظر بار بار اس لڑکے کی جانب گھوم جاتی ہے۔وہ پل بھر کو اسکی طرف دیکھتی ہے اور پھیر نظر چرا لیتی ہے۔ میں اسکی آنکھوں میں تجسس دیکھ سکتا ہوں۔ اسکی سوالی آنکھیں شاید اس لڑکے کے لئے  ہیں۔   دھوپ بھی اپنے شباب پر ہے۔ وہ لڑکی بار بار اس لڑکے کو دیکھتی اور نظر بچا لیتی ہے جیسے اسنے کچھ دیکھا ہی نہ ہو۔اسکے کھلے بال اسکے ماتھے پر بکھرے جا رہے ہیں جنہیں وہ بار بار اپنی انگلیوں سے ایک طرف سمیٹ لیتی ہے۔ وہ لڑکا بھی اکثر نظر اٹھا کر چاروں طرف دیکھتا ہے۔ اس دوران کچھ لمحوں کے لیئے اسکی نظر اس لڑکی پر رکتی ہے اور پھر وہ  اپنی کتاب میں محو ہو جاتا ہے۔ دونوں بار بار جانے انجانے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔ مگر دونوں اس بات سے انجان کی وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہیں۔ ہم اکثر لوگوں کی مانوس اور غیر مانوس نگاہوں کےدائرے میں ہوتے ہیں اور دوسرے ہماری نظروں کے دائرے   میں۔ یہ شعوری بھی ہوتا ہے اور غیر شعوری بھی۔ اور کبھی کبھی یہ نظروں کا کھیل ایک دوسرے سے انسیت  کی راہٰیں ہموار کر دیتا ہے۔ کچھ وقت گزر تا ہے۔ لڑکا چاے ختم کر چکا ہے۔ میری چائے بھی ختم ہو گئ ہے۔ وہ لڑکا کچھ دیر بعد وہا ں سے اٹھ کر چلا جاتا ہے۔ دھوپ اسی طرح کھلکھلا رہی ہے۔ میرے برف سے پیر بھی گرم ہو چکے ہیں۔  کچھ لمحوں بعد وہ لڑکی بھی وہاں سے چلی جاتی ہے۔ غالباً اسکی کلاس کا وقت ہو گیا ہو۔ بنچیں کچھ دیر کے لئیے کھالی ہوتی ہیں۔ منظر کچھ وقت کے لئیے بدل سا جاتا ہے۔ میں بھی وہاں سے اٹھ کر چلا جاتا ہوں۔ بنچیں اپنی جگہ باقی ہیں۔ دھوپ بھی اسی طرح باقی ہے۔ صرف منظر بدلا ہے۔ ان بنچوں پر اب کوئ اور بیٹھ گیا ہوگا۔ اور وہ لوگ بھی جانے انجانے ایک دوسرے کو ای طرح  آبزرو کر رہے ہوں۔ وہی نظام پھر سے جاری ہو۔ سب ایک دوسرے سے انجان مگر ایک ہی نظام کا حصہ بنے ہوئے۔

Comments

Popular posts from this blog

मेरे होंटों का गीत बनो - कविता

तुम परिजात के फूलों सी दिल आँगन में बिखरो महको तुम ग्रीष्म ऋतू की चिड़ियों सी धीमे धीमे सुर में चहको तुम प्रेम पियाले को पीकर मदमस्त रहो झूमो बहको तुम प्रेमाग्नि के पाँवन से अंगारों की तरह दहको तुम प्रेम गीत का राग बनो और मेरे कानों में गूंजो तुम श्वेत चांदनी की तरह मेरे दिल आँगन में फैलो ऐ काश कि तुम मेरी प्रीत बनो मेरे होंटों का गीत बनो - अबू तुराब 

Bhagat Singh Series : The Episode of Justice Agha Haider

Justice Agha Haider, originally from Saharanpur, UP, was the only Indian Judge in the special tribunal formed by the effect of an special ordinance passed by the then viceroy to conduct the proceedings of Lahore Conspiracy Case in 1930. The other members of the Tribunal were Justice Coldstream, the president of the tribunal, and Justice G.C. Helton. Apparently, it was just a formality to form such committees as the verdict was predefined. The tribunal was to work hand in glove with the Government. Justice Agha Haider was also to behave in such manner, but he was not going the way that he was to go. On 12th May 1930, a incident took place in the court area, it is known that accused used to sing revolutionary songs and shout slogans like, "Inqilab Zindabad" in the court room. The judges were so much annoyed by this behaviour that they clearly asked the accused avoid such things in the court room, when the accused refused to do so they were given sever maltrea

Kitabwallah: The Autobiography of Malcolm X

  Title: The Autobiography of Malcolm X Narrated to: Alex Haley by Malcolm X First Published: 1965 in Hardcover by Grove Press, Inc., New York, USA Those who are acquainted with the Civil Rights Movements and Black Revolution of the United States of America must know Malcolm X. A firebrand orator, a devoted Muslim and flag bearer of the Blacks’ right in North America. Malcolm X was born Malcolm Little in Lansing, Michigan on May 19, 1925, to Earl Little and Louise Little. His father was a Baptist minister and an organizer of Marcus Garvey’s Universal Negro Improvement Association that preached reversal of the Blacks to their Ancestral homeland – Africa. Due to his links with the association of Garvey and his activities in revolutionizing the black masses against White injustice, he was very much on the radar of White militant groups such Ku Klux Klan and was getting constant threats of facing consequences if he did not stop his activities. Eventually, he met the consequences