Skip to main content

بیوقوفی کی حدیں

تم نے سنا ہے بیوقوفی کی کچھ حدیں بھی رکھی گئ ہیں۔ کیا؟ بیوقوفی کی حدیں؟ مگر کیوں؟ کسنے مقرر کییں؟ تم سے قبل کے بیوقوفوں نے ہی کی ہونگی۔ کی ہونگی سے کیا مراد ہے؟ کیا تمہیں صحیح نہیں پتا؟  پتا تو ہے مگر یہ یقین نہیں کی جو کچھ مجھے پتا ہے وہ درست بھی ہے یا نہیں۔خیر مدعا تو یہ ہے کہ بیوقوفی کی حدیں ہوتی ہیں اور ان حدوں کے پار کرنے والے کو پاگل کہتے ہیں۔ کیا مطلب تم مجھے پاگل کہہ رہے ہو؟ نہیں تو میں نے تو یونہی بتایا۔ اب تم خود ہی بات کو اپنے اوپر لے جا رہے ہو تو اس میں میرا کیا قصور۔ میں تو صرف عمومی راے بتا رہا تھا۔ مگر یہ عمومی راے کیسے ہوئ؟ کیا سارے عوام بھی بیوقوف ہیں جو انہوں نے یہ راے قائم کر دی ہے؟ ھممم! بات تو قابل غور ہے۔ مگر پھر بھی مدعا تو یہ ہے کی بیوقوفی کی کچھ حدیں ہوتی ہیں اور ان حدوں کو پار کرنا پاگلپن ہی ہوتا ہے۔ بڑے فلسفی اور مفکر بھی اس بات کو بڑے وثوق سے کہتے اورلکھتے ہیں۔ کیا مطلب؟ فلسفی اور مفکر اس بات کے داعی کیسے ہو گئے کہ بیوقوفی کی کچھ حدیں ہوتی ہیں ۔ کیا انہوں نے کبھی ان حدوں کا پار کیا ہے جس سے وہ ان حدوں کا تعین کر سکیں؟ اماں ہاں! بات تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ مگر یار تم بار بار بات کو مدعا سے منحرف کر رہے ہو۔ تمہیں قبول کرنا ہوگا کی بیوقوفی کی حدیں ہوتی ہیں۔ اسیا میرا بھی یقین ہے۔      


Popular posts from this blog

Bhagat Singh Series : The Episode of Justice Agha Haider

Justice Agha Haider, originally from Saharanpur, UP, was the only Indian Judge in the special tribunal formed by the effect of an special ordinance passed by the then viceroy to conduct the proceedings of Lahore Conspiracy Case in 1930. The other members of the Tribunal were Justice Coldstream, the president of the tribunal, and Justice G.C. Helton. Apparently, it was just a formality to form such committees as the verdict was predefined. The tribunal was to work hand in glove with the Government. Justice Agha Haider was also to behave in such manner, but he was not going the way that he was to go. On 12th May 1930, a incident took place in the court area, it is known that accused used to sing revolutionary songs and shout slogans like, "Inqilab Zindabad" in the court room. The judges were so much annoyed by this behaviour that they clearly asked the accused avoid such things in the court room, when the accused refused to do so they were given sever maltrea

मेरे होंटों का गीत बनो - कविता

तुम परिजात के फूलों सी दिल आँगन में बिखरो महको तुम ग्रीष्म ऋतू की चिड़ियों सी धीमे धीमे सुर में चहको तुम प्रेम पियाले को पीकर मदमस्त रहो झूमो बहको तुम प्रेमाग्नि के पाँवन से अंगारों की तरह दहको तुम प्रेम गीत का राग बनो और मेरे कानों में गूंजो तुम श्वेत चांदनी की तरह मेरे दिल आँगन में फैलो ऐ काश कि तुम मेरी प्रीत बनो मेरे होंटों का गीत बनो - अबू तुराब 

Poetry Recital : Ramz by Jaun Elia